Fsc 2nd Year Urdu Chapter 10 Online Preparation

Online Short Questions For Chapter 10 "FSC Part 2 Urdu Chapter 10 Online Short Questions Test "

Try The Short Questions For FSC Part 2 Urdu Chapter 10 Online Short Questions Test

  • Total Questions10

  • Available Sets1

Urdu - FSC Part 2 Urdu Chapter 10 Online Short Questions Test

Question # 1

مندرجہ زیل اقتباس کا حوالہ متن، سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کریں - اقتباس: " لیکن احمق ! ہونی کو............. زبان سے نکلتی ہے."

  • Ans 1: تشریح : ڈراما " قرطبہ قاضی" میں قاضی یحییٰ بن منصور کے ایک خانہ زاد عبداللہ اور قاضی کے مجرم بیٹے زبیر کی دایہ حلاوہ کے درمیان زبیر کو دی جانے والی سزا اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں گرما گرم اور رقت انگیز بحث جاری ہے حلاوہ بے حد مایوس اور پریشان ہے جبکہ عبداللہ اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے زبیر کی سزا پر عمل درآمد کو خارج از امکان قرار دیتا ہے کیونکہ شہر میں داخل ہونے والے ہر شخص سے کلام پاک پر حلف لیا جائے گا کہ وہ زبیر کی سزا سے کوئی سروکار نہیں رکھے گا. پورا شہر پہلے ہی اس سزا کے خلاف ہے لیکن ان تمام تسلیوں کے باوجود ھلاوہ کے اندر پرورش پانے والا خوف کسی طرح کم ہونے میں نہیں آتا- وہ قاضی کی شدید ایمان ساری سے بھی لرزاں ہے اور کسی انہونی آفت نے بھی اسے خوف زدہ کر رکھا ہے. زبیر کو چونکہ اس نے اپنے دودھ پر پالا ہے وہ کہتی ہے کہ میں دنیا اور حالات کا محض ظاہری آنکھ سے مشاہدہ نہیں کرتی بلکہ میری باطن کی آنکھیں بھی حالات کا پوری طرح جائزہ لے رہی ہیں- میں اپنی باطن کی انھی آنکھوں سے زبیر کے جوان جسم کو سولی پر جھولتے دیکھا ہے- وہ زبیر جو پیدا ہوتے ہی میری گود میں دے دیا گیا تھا- اور میں نے جسے لوریاں سنا کے اور دودھ پلاپلا کے ایک خوبصورت جوان بنایا ہے ، ایسا جوان جس کی رعنائی پر لوگ رشک کرتے ہیں.
Submit

Prepare Complete Set Wise Questions For Chapter 10 "FSC Part 2 Urdu Chapter 10 Online Short Questions Test "

FSC Part 2 Urdu Chapter 10 Online Short Questions Test - Set 1

Question # 1

مندرجہ زیل اقتباس کا حوالہ متن، سیاق و سباق کے حوالے سے تشریح کریں - اقتباس: " لیکن احمق ! ہونی کو............. زبان سے نکلتی ہے."

  • Ans 1: تشریح : ڈراما " قرطبہ قاضی" میں قاضی یحییٰ بن منصور کے ایک خانہ زاد عبداللہ اور قاضی کے مجرم بیٹے زبیر کی دایہ حلاوہ کے درمیان زبیر کو دی جانے والی سزا اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں گرما گرم اور رقت انگیز بحث جاری ہے حلاوہ بے حد مایوس اور پریشان ہے جبکہ عبداللہ اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے زبیر کی سزا پر عمل درآمد کو خارج از امکان قرار دیتا ہے کیونکہ شہر میں داخل ہونے والے ہر شخص سے کلام پاک پر حلف لیا جائے گا کہ وہ زبیر کی سزا سے کوئی سروکار نہیں رکھے گا. پورا شہر پہلے ہی اس سزا کے خلاف ہے لیکن ان تمام تسلیوں کے باوجود ھلاوہ کے اندر پرورش پانے والا خوف کسی طرح کم ہونے میں نہیں آتا- وہ قاضی کی شدید ایمان ساری سے بھی لرزاں ہے اور کسی انہونی آفت نے بھی اسے خوف زدہ کر رکھا ہے. زبیر کو چونکہ اس نے اپنے دودھ پر پالا ہے وہ کہتی ہے کہ میں دنیا اور حالات کا محض ظاہری آنکھ سے مشاہدہ نہیں کرتی بلکہ میری باطن کی آنکھیں بھی حالات کا پوری طرح جائزہ لے رہی ہیں- میں اپنی باطن کی انھی آنکھوں سے زبیر کے جوان جسم کو سولی پر جھولتے دیکھا ہے- وہ زبیر جو پیدا ہوتے ہی میری گود میں دے دیا گیا تھا- اور میں نے جسے لوریاں سنا کے اور دودھ پلاپلا کے ایک خوبصورت جوان بنایا ہے ، ایسا جوان جس کی رعنائی پر لوگ رشک کرتے ہیں.
Submit

10th Chapter

12th Urdu Chapter 10 Preparation

Here you can prepare 12th Urdu Chapter 10. Click the button for 100% free full practice.

Is this page helpful?

Share your comments & questions here

Guest
  • No comments yet. Be the first to comment!