2nd Year Urdu Chapter 12 Online Preparation

Online Short Questions For Chapter 12 "FSC Part 2 Urdu Chapter 12 Online Short Questions Test "

Try The Short Questions For FSC Part 2 Urdu Chapter 12 Online Short Questions Test

  • Total Questions10

  • Available Sets1

Urdu - FSC Part 2 Urdu Chapter 12 Online Short Questions Test

Question # 1

سبق مولوی نذیر احمد کا سبق کا خلاصہ تحریر کریں -

  • Ans 1: جب ریاست چاورہ کے نواب افتخار علی خاں کے بھائی نواب سرفراز علی خاں بیمارہوئے تو انہیں خواب میں مولوی نذیر احمد کا کیا ہوا قرآن کا ترجمہ چھپوانے کا اشارہ ہوا جس کی مولوی صاحب نے انہیں اجازت دے دی- بچپن میں پنجابی کٹٹے کی مسجد میں زمانہ طالب علمی میں فرش پر کہنیاں ٹکا کر رات رات بھر پڑھنے وہ اپنے بچپن کے مصائب بڑے فخر سے بیان کیا کرتے تھے- مسجد کے بدمزاج ملا کا رویہ سخت میں ٹاٹ کی صف میں لپٹ کر سونا، محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانا، مولوی نذیر احمد اپنی غیر معمولی قابیلت کا بنا پر سر سید کے مقربین میں شامل تھے- اگر چہ سرسید سے بعض معاملات میں آختلاف رکھتے تھے لیکن مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے باب میں وہ ان کے حامی و مددگار تھے- سرسید مولوی نذیر احمد سے عمر میں بیس بائیس سال بڑے تھے لیکن وہ مولوی عمر میں بیس سال بڑے تھے لیکن وہ مولوی صاحب کا بہت احترام کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ اپ کے جوتے کے تسمے باندھوں- مولوی صاحب عربی کے نہایت جید عالم تھے- لوگ قرآن کے ترجمے کا تقاضا کرتے لیکن وہ ٹال جاتے ملازمت سے سبکدوشی کے ترجمعہ کیا تو اکثر قرآنی آیات کا بھی ترجمہ کرنا پڑا- پھر یہ شوق اس قدر بڑھ گیا کہ قرآن کا شستہ وبا محاورہ ترجمہ کر ڈالا- اس ترجمے میں انھوں نے انتہائی محنت ، تحقیق اور احتیاط سےکام لیا مولوی صاحب کو اپنی تمام تصانیف میں یہ ترجمہ سب سے زیادہ پسند تھا اور وہ اسے اپنے لیے توشئی آخرت سمنجھتے تھے-
Submit

Prepare Complete Set Wise Questions For Chapter 12 "FSC Part 2 Urdu Chapter 12 Online Short Questions Test "

FSC Part 2 Urdu Chapter 12 Online Short Questions Test - Set 1

Question # 1

سبق مولوی نذیر احمد کا سبق کا خلاصہ تحریر کریں -

  • Ans 1: جب ریاست چاورہ کے نواب افتخار علی خاں کے بھائی نواب سرفراز علی خاں بیمارہوئے تو انہیں خواب میں مولوی نذیر احمد کا کیا ہوا قرآن کا ترجمہ چھپوانے کا اشارہ ہوا جس کی مولوی صاحب نے انہیں اجازت دے دی- بچپن میں پنجابی کٹٹے کی مسجد میں زمانہ طالب علمی میں فرش پر کہنیاں ٹکا کر رات رات بھر پڑھنے وہ اپنے بچپن کے مصائب بڑے فخر سے بیان کیا کرتے تھے- مسجد کے بدمزاج ملا کا رویہ سخت میں ٹاٹ کی صف میں لپٹ کر سونا، محلے کے گھروں سے روٹی مانگ کر لانا، مولوی نذیر احمد اپنی غیر معمولی قابیلت کا بنا پر سر سید کے مقربین میں شامل تھے- اگر چہ سرسید سے بعض معاملات میں آختلاف رکھتے تھے لیکن مسلمانوں کی تعلیم و ترقی کے باب میں وہ ان کے حامی و مددگار تھے- سرسید مولوی نذیر احمد سے عمر میں بیس بائیس سال بڑے تھے لیکن وہ مولوی عمر میں بیس سال بڑے تھے لیکن وہ مولوی صاحب کا بہت احترام کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ مولوی صاحب میں اس لائق بھی نہیں ہوں کہ اپ کے جوتے کے تسمے باندھوں- مولوی صاحب عربی کے نہایت جید عالم تھے- لوگ قرآن کے ترجمے کا تقاضا کرتے لیکن وہ ٹال جاتے ملازمت سے سبکدوشی کے ترجمعہ کیا تو اکثر قرآنی آیات کا بھی ترجمہ کرنا پڑا- پھر یہ شوق اس قدر بڑھ گیا کہ قرآن کا شستہ وبا محاورہ ترجمہ کر ڈالا- اس ترجمے میں انھوں نے انتہائی محنت ، تحقیق اور احتیاط سےکام لیا مولوی صاحب کو اپنی تمام تصانیف میں یہ ترجمہ سب سے زیادہ پسند تھا اور وہ اسے اپنے لیے توشئی آخرت سمنجھتے تھے-
Submit

12th Chapter

12th Urdu Chapter 12 Preparation

Here you can prepare 12th Urdu Chapter 12. Click the button for 100% free full practice.

Is this page helpful?