Tarjuma Tul Quran Majeed ICS Part 2 Tarjmatul Quran Chapter 13 Short Questions Test
Try the Tarjuma Tul Quran Majeed ICS Part 2 Tarjmatul Quran Chapter 13 Short Questions Test.
Start Test
Download Pdf
Tarjuma Tul Quran Majeed ICS Part 2 Tarjmatul Quran Chapter 13 Short Questions Test
Question # 1
اللہ تعالی کن لوگوں کی گمراہی کا فیصلہ کرتا ہے.
-
Ans 1: اللہ تعالی ان لوگوں کو گمراہ کرتا لے جو اللہ تعالی کے عہد کو توڑتے، قطع رحمی کرتے زمین پر فساد مچاتے ہیں-
Question # 2
مباہلہ کے کیا معنی ہے.
-
Ans 1: مباہلہ کے معنی ہے کہ کسی عقیدے کے بارے میں مختلف آرا رکھنے والے لوگ نہایت عاجزی سے اللہ تعالی کے دربار میں یہ دعا کریں کہ ان میں سے جو جھوٹا ہو اس پر اللہ تعالی کی لعنت اور پکڑ ہو.
Question # 3
مباہلہ کا واقعہ تحریر کریں-
-
Ans 1: مباہلہ کا پس منظر یہ ہے کہ عرب کے علاقے نجران میں نصاریٰ بڑی تعداد میں آباد تھے- ان کا ایک وفد نبی کریم خاتم النبین کے پاس مدینہ منورہ آیا- یہ وفد ساٹھ افراد پر مشتمل تھا- ان میں چودہ برے سردار بھی تھے. ان سرداروں میں تین افراد
بہت خاص تھے- ان کے دینی و دنیاوی معاملات وہی تین افراد دیکھتے تھ- یہ وفد
اعلان نبوت کی خبر سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین سے مناظرہ کرنے کی غرض سے آیا تھا- اس وفد نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین میں اپنے گمراہ کن عقائد پر دلائل دینے شروع کردیے.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے تمام دلائل سماعت فرما کر ایک ایک دلیل کو رد فرمایا اور وہ لوگ لاجواب ہوتے چلے گئے- پھر اللہ تعالی نے سورۃ ال عمران کی آیت نمبر اکسٹھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے مباہلہ کرنے
کا حکم دیا.
Question # 4
غزوہ تبوک میں مسلمانوں کا مقابلہ کس سے تھا؟
-
Ans 1: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے اعلان جہاد فرمایا . صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ ملک شام جاکر قیصر روم کی افواج سے مقابلہ کیا غزوہ تبوک میں حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اگر یہ اقدام نہ فرماتے تو اسے اسلام اور مسلمانوں کی کمزوری سمجھا جاتا- منافقین نے مسلمانوں کو بددل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ اپنے اس مذموم ارادے مین کامیاب نہ ہوسکے.
Question # 5
غزوہ تبوک میں منافقین کا کیا کردار تھا؟
-
Ans 1: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے منافقین کے سردار عبداللہ بن ابی کو اس کے تمام منافق ساتھیوں سمیت لشکر سے نکال باہر کیا- اہل ایمان نے اپنی طاقت سے بڑھ کر ایثار کا مظاہرہ کیا اور پکی ہوئی فصلوں کو چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کے ساتھ روانہ ہوگئے.
Question # 6
سورۃ الانفال کے مضامین کے دو نکات تحریر کریں
-
Ans 1: 1- غزوہ بدر میں فرشتوں کے نزول کے زریعے اللہ تعالی کی غیبی مدد کا تزکرہ کیا گیا ہے-
2- سورت کے آغاز میں مسلمانوں کو تقویٰ ، اطاعت ھق، زکر الہی اور اللہ تعالی پر توکل کی تعلیم دی گئی ہے.
Question # 7
حضرت مریم علیہ السلام کے والد کا نام کیا تھا.
-
Ans 1: حضرت عمران ،حضرت مریم علیہ السلام کے والدکا نام تھا.
Question # 8
سورۃ الانفال کا مرکزی مضمون کیا ہے.؟
-
Ans 1: سورۃ الانفال کا مرکزی مضمون " اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے آداب و فضائل کا بیان اور صلح و جنگ کے احکام کی وضاحت" ہے.
سورۃ الالنفا میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات بھی یاد دلائے ہیں- مسلمانوں نے جس
جاں نثاری کے ساتھ یہ جنگ لڑی ان کی تعریف اور حوصلہ افزائی بھی فرمائی ہے- ساتھ ساتھ ان کمزرویوں کی نشان دہی بھی کی گئی ہے جو اس جنگ میں سامنے
ائیں - ائندہ کے لیے ایسی ہدایات بھی دی گئی ہیں جو ہمیشہ مسلمانوں کی کامیابی
اور فتح و نصرت کا سبب بن سکتی ہیں- جہاد اور مال غنیمت کی تقسیم کے بہت سے
احکام اس سورت میں بیان ہوئے.
Question # 9
سورۃ البقرہ کا مضمون کے بارے میں تحریر کریں-
-
Ans 1: سورۃ البقرہ کا مرکزی مضمون ہدایت ہے.
سورۃالقبرہ کے بالکل شروع میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو قرآن مجید سے ہدایت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں-
اس سورت مین واضح کیا گیا ہے کہ جس طرح پہلے اللہ تعالی انسانوں کی ہدایت کے
لیے انبیائے کرام علیھم السلام کے زریعے سے کتابیں بھیجتا رہا ہے- اسی طرح اس
نے حضرت محمد رسول اللہ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی قرآن مجید کے
ساتھ مبعوث فرمایا ہے.- یہ واضح کیا گیا ہے کہ آپ خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے بغیر ایمان کا دعویٰ قبول نہیں- لہذا انسانوں کا حکم دیا گیا ہے کہ قرآن محید اور صاحب قرآن خاتم انبین صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ اور ان کی کامل
اطاعت کرو.
Question # 10
سورۃ التوبہ کو سورۃ البراءۃ کیوں کہا جاتاہے.
-
Ans 1: سورۃ البرءۃ اس لیے کہا جاتا ہے کہ براءت کےمعنی کسی سے بری، بے زار، قطع تعلق اور دست بردار ہونا ہے. اس سورت کے شروع ہی میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین
سے بری الزمہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالی اور نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم خاتم انبین مشرکین سے بے نیاز اور قطع تعلق ہیں-
Submit
Share your comments & questions here
No comments yet. Be the first to comment!