Online Short Questions For Chapter 3 "9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha "
Try The Short Questions For 9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha
Islamiat (New Book) - 9th Class Islamiat urdu mdeium Mozoaati Motalha
Question # 1
غزوہ حنین میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ خاتم النبین نے کس طرح شجاعت و استقامت کا مظاہرہ فرمایا، وضاحت کریں-
-
Ans 1: فتح مکہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین مکہ مکرمہ میں انیس دن قیام کرنے کے بعد شوال 8 ہجریکو بارہ ہزارکے لشکر کے ساتھ وادی حنین کی جانب
روانہ ہوئے- لشکر کی تعداد دیکھ کر بعض نو مسلموں کے زہن میں یہ خیال آیا کہ
کوئی طاقت ہمیں شکست سے دو چار نہیں کرسکتی ، ان کا یوں اپنی ظاہری طاقت و
کثرت تعداد پر اترانا اللہ تعالی کو پسند نہ آیا-
اس موقعے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین بے مثال جرآت و بہادری کا
مظاہرہ کرتے ہوئے میدان میں ڈتے رہے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین
اپنے خچر پر سوار تھے ، جس کی رکاب حضرت ابوسفیان رضی اللہ تعالی عنہ نے
اور لگام حضرت عباس رضی اللہ تعالی نے پکڑ رکھی تھی-
Question # 2
غزوہ حنین میں مسلمانوں کو کیا مال غنیمت حاصل ہوا؟
-
Ans 1: غزوہ حنین میں اللہ تعالی نے اہل اسلام کو بے شمار مال غنیمت عطا فرمایا- اس مال غنیمت میں چھے ہزار جنگی قیدی ، چوبیس ہزار اونٹ، چالیس ہزار بکریاں اور چار ہزار بکریاں اور چار ہزار اوقیہ چاندی شامل تھی-
Question # 3
فتح مکہ کے موقع پر کن تین صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ کو لشکر کا امیر مقرر کیا گیا.
-
Ans 1: مرالظھران کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین نے حضرت خالد بن
ولید رضی اللہ تعالی عنہ کو میمنہ ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ، اور حضرت
ابوعبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو پیدل لشکر کا امیر مقرر فرمایا. آپ خاتم النبین کا پرچم زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا.
Question # 4
فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ خاتم النبین نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کیا ارشاد فرمایا.
-
Ans 1: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ خاتم النبین کا اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کردینا عفو و درگزر کی شان دار مثال ہے- پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین اور حضرت علی کرم اللہ وجہ نے خانہ کعبہ کو تین سو ساٹھ بتوں سے پاک فرمایا.
Question # 5
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کی رضاعی والدہ حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں-
-
Ans 1: حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالی عنہفرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ایک روز مجھ سے کہنے لگے : اماں جان1 میرے بہن بھائی دن بھ رنظر نہیں آتے، یہ صبح کو اٹھ کر روزانہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ میں نے کہا یہ یہ لوگ بکریاں
چرانے جاتے ہین-یہ سن کر آپ نے فرمایا: اماں جان! آپ مجھے بھی میرے بہن بھائیوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیجیے.
Question # 6
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کا بہن بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک تحریرکریں-
-
Ans 1: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کے سگے بہن بھائی نہیں تھے- آپ خاتم النبین کی رضاعی بہن حضرت شیما نبی کریم خاتم النبین کو گود میں کھلایا کرتی تھیں اور پنگھوڑے میں لوریاں دیتی تھیں-امیر حمزہ رضی اللہ تعالی کے رضاعی بھائی بھی
تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دوہرے رشتے کی وجہ سے حضرت حمزہ
رضی اللہ تعالی کے لیے بہت شفقت اور محبت کے جذبات رکھتے تھے- ہمیشہ حسن
سلوک سے پیش آتے تھے-
اعلان نبوت سے پہلے آپ خاتم النبین کے دوستوں میں حضرت ابوبکر صدیق رضی
اللہ تعالی ، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ تعالی اور حضرت ضماد بن ثغلبہ رضی اللہ تعالی سر فہرست ہیں- یہ تمام احباب نہایت ہی بلند اخلاق اور باوقار لوگ تھے، آپ کے اپنے دوستوں سے تجارتی تعلقات بھی تھے-
Question # 7
عبادات میں اعتدال اور میانہ روی سے کیا مرا دہے.
-
Ans 1: دین اسلام عبادات میں بھی میانہ روی اور اعتدادل کا حکم دیتا ہے- عبادت میں میانہ روی سے یہ مراد ہے کہ انسان اللہ تعالی کی عبادت بھی کرے، اس کے بندوں کے
حقوق بھی ادا کرے اور ساتھ ساتھ اپنی صحت اور ضرورتوں کا بھی خیال رکھے-
انسان اگر زندگی کا ہر لمحہ اللہ تعالی اور اس کے رسول خاتم النبین صلی اللہ علیہ
وسلم کے احکام کے مطابق گزاراتا ہے تو وہ لمحہ بھی عبادت شمار ہوگا.
Question # 8
عفت وحیا کے بارے میں آپ کی کیا روایت ہے.
-
Ans 1: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین حیا کے پیکر تھے- آپ کی عفت وحیا کے حوالے سے روایت ہے کہ آپ خاتم النبین پردہ دار کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا والے تھے. (صحیح بخاری: 3562)
Question # 9
حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین سے کون سا دوہرا رشتہ تھا.
-
Ans 1: سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ آپ خاتم النبین کے چچا ہیں- سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین کے رضاعی بھائی بھی تھے- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین اس دوہرے رشتے کی وجہ سے حضرت
حمزہ رضی اللہ تعالی کے لیے بہت شفقت اور محبت کے جذبات رکھتے تھے.
ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آتے تھے.
Question # 10
نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خاتم النبین نے عبادت میں میانہ روی کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی کو کیا نصحیت کی؟
-
Ans 1: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے عبادات میں میانہ روی اور اعتدال اپنانے کا حکم دیا- حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی خاتم النبین میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا؛ کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم
رات بھر عبادت کرتے ہو اور دن میں روزے رکھتے ہو؟ مین نے عرض کیا: جی ہاں یہ صحیح ہے-آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا نہ کرو، عبادت بھی کرو
اور آرام بھی، روزے بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی، کیوں کہ تمھارے جسم کا بھی تم
پر حق ہے. آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے تم سے ملاقات کے لے آنے والوں بھی تم
پر حق ہے- بیوی کا بھی تم پر حق ہے.
Submit
Share your comments & questions here
No comments yet. Be the first to comment!