کرم کا درجن اتنے کا ہوتا ہے


کرم کا درجن اتنے کا ہوتا ہے.
 
الف لیلہ تو پڑھی ہی ہوگی!
 
الف لیلہ، ہزار داستان نہیں پڑھی تو یہ کہانی بھی سمجھ میں نہیں آئے گی. چلیں کرم کا درجن ہی سمجھ لیجئے جو تیرہ کیلوں سے لے کر چوبیس کیلوں تک کا ہوسکتا ہے.
 
بندہ اپنی انگلی کاٹ سکتا ہے جب اسے ای میل ریمنڈ کین او بی ای کی طرف سے آئے. ریمنڈ کین گرانڈ چیس ماسٹر ہے جو شطرنج کی دنیا میں سب سے بڑا اعزاز ہے. یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ ذہانت کے معیار کے حوالے سے شطرنج کو سائنسی طور پر سب کھیلوں پر برتری حاصل ہے. میری پیدائش سے بھی پہلے ریمنڈ نے نے برٹش چیس چیمپئن شپ جیتی اور پہلا برطانوی گرانڈ چیس ماسٹر بنا. وہ 199 سے زیادہ کتابوں کا مصنف ہے، دی ٹائمز، سنڈے ٹائمز اور بی بی سی پر عشروں لکھ اور بول چکا ہے. دنیا کے عظیم ترین دماغوں میں سے ایک ٹونی بیوزان نے، دنیا بھر سے اپنی طرح کے جن اکٹھے کیے اور 1990 میں برین ٹرسٹ قائم کیا جو ہر سال برین آف دی ایئر ایوارڈ جاری کرتا ہے. ذرا سوچیں تو کہ آپ کو برین ٹرسٹ کی جانب سے ای میل آئے اور پوچھا جائے .... وی ہیو ووٹڈ یو برین آف دی ایئر... ول یو ایکسپٹ اٹ؟ شاید آپ آسانی سے ہاں بھی کردیں کیونکہ آپ واقعی اتنے ذہین ہوں گے، مگر میرے جیسے کیا کریں؟
 
چار دہائیاں قبل میں وادی سون سکیسر میں پیدا ہوا، پنجاب کے شمال میں ہے. دس میں سے نو لوگ ابھی بھی نہیں جانتے .
 
اس سنگلاخ وادی میں یا تو پتھر یا پھر سپاہی پیدا ہوتے ہیں. میرا دادکا اور نانکا خاندان سپاہیوں کا خاندان تھا. تقریباً ہر دوسرے گھر میں بھیڑ بکریاں پالی جاتی تھیں اور ہر پانچواں شخص چرواہا تھا.
 
وہاں کھدری (جنگل) میں، کبھی کبھار میں بکریاں چرانے جایا کرتا تھا. اور میں ایک برا چرواہا تھا. اگر میں واقعی چرواہا بنتا تو شاید انگہ کا سب سے برا چرواہا ہوتا.
 
پھر میں انگہ سے ملتان میں آیا اور ٹاٹ میڈیم میں جامع العلوم سکول کا طالب علم بنا. تب اردو بھی نہیں آتی تھی اور کافی پھینٹی چڑھتی تھی. بس فرسٹ ڈویژن میں میڑک کیا
 
ایف ایس سی، ایز اے ہول فیل کیا
 
بی اے میں یونیورسٹی میں پوزیشن لے لی
 
پھر ایم اے انگلش پڑھا، وہاں سے بھاگ کر پنجاب یونیورسٹی میں نفسیات پڑھنے چلا گیا.
 
میں ایک بیک بنچر تھا، کلاس میں بولنے سے چڑ تھی... شاید ہی کسی نے میری آواز سنی ہو.
 
پھر 45-40 دن میں سی ایس ایس کیا. اس سے زیادہ وقت دستیاب نہیں تھا کہ جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کام کرنا پڑتا تھا. اس میں بھی 100 ویں کے لگ بھگ پوزیشن حاصل کی. کوئی بڑا معرکہ نہیں مارا.
 
جب سے پندرہ سال کا ہوں، لکھ رہا ہوں. صرف یہی کام آتا تھا. سات کتابیں لکھ ماریں. ٹائم مینیجمٹ پر، انسپائریشن پر، انٹیلی جنس پر اور لیڈرشپ پر...
 
25 سال قلم گھسانے سے آہستہ آہستہ لکھنا سیکھ گیا. لوگ کہتے ہیں اب اچھا لکھ لیتا ہوں.
 
بولنے کے لیے امریکی اور برطانوی انگریزی لب ولہجے پر بہت مشقت کی. کچھ کچھ بولنا آگیا. پہلے دو بندوں کے سامنے زبان نہیں کھلتیں تھی، اب ہزاروں کے سامنے بول لیتا ہوں. دنیا کے درجنوں ملکوں میں، 50 سے زیادہ یونیورسٹیوں میں بول چکا ہوں.
 
بولنے میں برکت پڑ گئی اور دنیا کے مؤثر ترین لوگوں کے ساتھ بھی بولا. پریزیڈنٹ کلنٹن کے ساتھ بھی بولا، ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ بھی، پرائم منسٹر گیلانی کے ساتھ، عمران خان کے ساتھ، صدر پرویز مشرف کے ساتھ، پرائم منسٹر تھیریسا مے کے ساتھ، نورس جانسن کے ساتھ، پرائم منسٹر ٹونی ایبٹ کے ساتھ.... بس بول بول کر پریکٹس ہوگئی. تقریباً دو ملین لوگوں کے سامنے بول لیا. سمجھ میں آیا بندہ ایک چیز سیکھ لے، اور کرتا جائے تو اس کے لیے خاص ذہانت کی ضرورت نہیں ہوتی. کوئی بیس ہزار گھنٹے تو لگائے ہوں گے، لکھنے اور بولنے کے کام میں. کہتے ہیں دس ہزار گھنٹے میں کوئی بھی فیلڈ ماسٹر ہوجاتا ہے. ماسٹری تو نہیں ملی، بس گزارہ ہوجاتا ہے.
 
2015 میں ایک کتاب لکھی جس کا نام آئی ایم پاسیبل تھا. وہ ہٹ ہوگئی. لندن میں، برطانیہ میں، یورپ کے بہت ست شہروں میں پانچ اور دس ہزار لوگوں کے مجمع نے نعرے لگائے. آئی ایم پاسیبل. بات آگے بڑھی تو ورلڈ چیمپئنز نے بھی اور دنیا کی مشہور ترین سیلیبریٹیز نے بھی آئی ایم پاسیبل کا نعرہ لگایا. یہ نعرہ میرے اندر سے نکلا تھا کہ اگر میرے جیسا بیلو ایوریج شخص جس نے زندگی میں کسی چیز میں ایکسل نہ کیا ہو، بیک بینچر اور سیکنڈ ڈویژنر رہا ہو، اگر کچھ نہ کچھ کرسکتا ہو تو آپ صاحب لوگ کیا کچھ نہیں کر سکتے.
 
آئی ایم پاسیبل کا ٹائٹل ایک مکمل روحانی واردات تھی. کائنات کے مالک نے مٹی میں جان پھونکی اور اسے علم عطا فرمایا، مسجود ملائک ٹھہرایا اور جہاں اس کی اندر بشری کمزوریاں گوندھ دیں وہاں اسے اپنا نائب اور اشرف المخلوقات بھی بنا دیا. اگر اس کائنات کا مالک اتنا عالیشان اور بے پناہ ہے تو اس کا نائب کیسا ہوگا؟ تو ہمارے اندر ہمارے بیرئیر ہیں، رکاوٹیں ہیں اور لامحدودہونے کے سارے اسباب بھی. ہم اپنی آزمائشوں، کلفتوں اور مصیبتوں سکے چھوٹے بھی ہیں اور ان سے بڑے بھی. ناممکن بھی ہیں اور ممکن بھی.
 
خیر چار دن پہلے تو اخیر ہوگئی. برین ایوارڈ آف دا ائیر. جسٹ امیجن. ایک نالائق چرواہے کو .. .. ایک بیک بنچر کو کن کے ساتھ بٹھا ڈالا..... گزشتہ پچاس، سو سال میں انسانی تاریخ کے ذہین ترین لوگوں کے ساتھ.. شطرنج کے روسی جن گیری کیسپروف، دنیا کے گرد پہلے چکر لگانے والا امریکی خلاباز جان گلین، آٹھ مرتبہ میمیوری ورلڈ چیمپئن ڈومینیک اوبرائین، دماغ کے موضوع پر اتھارٹی بیرنیس سوزن گرین فیلڈ اور........ سٹیون ہاکنگ.... دنیا کے عظیم ترین دماغوں میں سے ایک...یعنی کہ جسٹ امیجن. ہاکنگ سے کئی سال پہلے دو ملاقاتیں ہوئیں. اسے بھی یہ خبر سن کر چکر آگئے ہوں گے.
 
میں نے تو کچھ خاص نہیں کیا، جب کووڈ کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا تو ون ملین میلز کا خیال سوجھا، اس میں بھی میں بھی زیادہ کام میرے ساتھ کو فاؤنڈرز نے کیا، والنٹیرز نے کیا. جب ہم نے یہ کام شروع کیا تو اس وقت بس ایک نیت کی تھی کہ یہ کام صرف رب کی رضا کے لیے ہے. شاید نیت میں کچھ خالص تھا جو قبول ہوگیا ہو، یا پھر والدین کی، بہنوں کی، بھائیوں کی اور آپ میں سے بہت سوں کی دعائیں ہوں گی، ورنہ سمجھ سے باہر ہے کہ ایک کاٹھے گوروں والی تنظیم ایک پاکستانی اور مسلمان کو برین آف دی ایئر کا ایوارڈ کیوں دے گی؟
 
شاید آپ نے فارسٹ گمپ دیکھی ہی ہوگی. نالائق اور ایوریج بندہ بھی چلتا رہے تو کہیں نہ کہیں پہنچ ہی جاتا ہے. وڈیو بنانے سے میری جان جاتی ہے بس اسی لیے بنائی ہے تاکہ ایک ہی چیز ثابت کی جاسکے کہ آپ چلتے رہیں تو کہیں پہنچ ہی جاتے ہیں. دنیا کو غیر معمولی ٹیلنٹڈ افراد سے زیادہ مستقل مزاج لوگ چاہئیں. تو آپ لوگ جہاں کہیں بھی ہیں، بس اٹھیں اور چلنا شروع کر دیں کہ چل پڑنا کھڑے ہونے سے کہیں بہتر ہے. اگر آپ چلتے رہیں گے تو خواب سچے ہوجائیں گے... بہت مار پڑے گی، بے شمار دفعہ ناکام ہوں گے... مگر کہیں نہ کہیں پہنچ جائیں گے.
 
لوگوں کے لیے پرسنل ڈیویلپمنٹ یا سیلف ہیلپ کوئی انڈسٹری ہوگی،میرے لیے تو زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے. یعنی تیشہ ہاتھ میں پکڑو، اور اپنے آپ کو تراشتے جاؤ. ہاں، پھر گھاؤ تو لگتے ہیں، مگر کہیں کہیں سے کوئی شکن بھی دور ہو ہی جاتی ہے.
 
مگر سب سے بڑھ کر کوئی کرم کا تیرہ کا، بیس کا، چوبیس کا درجن ہوگا، تو آپ کے ہاتھ میں بھی کچھ آجائے گا.
 
خس خس جِناں قدر نا میرا، میرے صاحب نوں وڈیائیاں ؎
میں گلیاں دا روڑا کوڑا تے محل چڑھایا سائیاں ؎
 
یہ ایوارڈ ہر اس شخص کے نام ہے جو کرم کے درجن پر ایمان رکھتا ہے.
 
لمبا ہوگیا یار!!!!
 
(ان تمام دوستوں اور محبت کرنے والوں کا شکریہ جنہوں نے مبارکباد دی اور اس چھوٹے سے ایوارڈ کو پاکستان کے لیے جیت قرار دیا. جن دوستوں کا خیال ہے کہ اس بار غلط بندے کو ایوارڈ دے دیا ہے، میں بھی اس بارے میں ان کا ہم خیال ہوں ".)
 
عارف انیس
🙏🏽 ♥️♥️♥️

Top Contributors

KiranNasir

171 Articles

Mehran Ali

University Of Management And Technology Umt Lahore

160 Articles

Farah

79 Articles

M Abid Ayub

Punjab University PU Lahore

57 Articles

Jawairia Chaudary

Punjab University College Of Information Technology Lahore

56 Articles

ALEEM AHMED

Allama Iqbal Open University (Aiou) Islamabad

55 Articles

 

Share your comments questions here
  • Text
9555

Find the best institute for yourself!

We need a few details from you to suggest you relevant institutes & create your free profile

Most Popular Articles

Role of media in Pakistan
  • Date: 12/May/2012
  • Category: Education
14 August , Independence Day of Pakistan
  • Date: 13/Aug/2014
  • Category: Education
Best and Correct Key Book Math’s Class 9 (PTB)
  • Date: 17/Feb/2016
  • Category: Education
The Great Blessings of the Holy Month of Ramadan
  • Date: 10/Jul/2012
  • Category: Education
Major Problems Facing Pakistan Today
  • Date: 28/Oct/2014
  • Category: Education
Students' problems in Pakistan
  • Date: 15/May/2012
  • Category: Education
Allama Iqbal and Ideology of Pakistan
  • Date: 02/Nov/2015
  • Category: Education
Solutions of energy crisis in Pakistan
  • Date: 22/Jun/2012
  • Category: Education