ارطغرل غازی ڈرامہ سے سیکھنے کے تین اہم پہلو

  • News Submitted By: Ilm Ki Dunya

  • 18-May-2020

  • Views: 3272

جو لوگ کسی بھی قسم کی فلموں یا ڈراموں سے پرہیز کرتے ہیں وہ بے شک یہ سیریز نہ دیکھیں اور جو ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستانی ڈراموں کے بغیر سانس نہیں لیتے ان کے لیے قدرے بہتر ہے کہ وہ ترک تاریخی ڈرامہ سیریز ارطغرل دیکھ لیں۔
ارطغرل معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے ڈرامے اور فحاشی کے آسمان کو چھوتی فلموں کے دور میں اسلامی تاریخ، ثقافت اور تعلیمات سے مزین بہترین کرداروں پر مشتمل سیریز ہے جس نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔گیم آف تھرونز یا مغرب زدہ سیزنز کے برعکس ارطغرل سیریز اسلامی کلچر،تہذیب، اخلاص، اخلاق، اتحاد، انصاف، علماء کے کرادر، علماء کی عزت اور اللہ کی راہ میں قربانی کی عکاسی کرتی ہے۔نیویارک ٹائمز میں اس سیریز کو ترکی کی طرف سے سافٹ ایٹم بم قرار دیا گیا ہے جو مسلمانوں کو اسلامی سلطنت کے خواب دکھا کر عنقریب ایک طوفان کی سی صورت میں نمودار ہو گا۔
ہماری تاریخ ایسے مجاہدین سے بھری پڑی ہے جنہوں نے اسلام کے پرچم کو بلند کیا اور کافروں کو ناکوں چنے چبوائے۔ارطغرل غازی کا شمار بھی ایسے ہی مجاہدین میں ہوتا ہے جنہوں نے اللہ کے پرچم کو تھامے رکھا اور بہت سی فتوحات حاصل کیں۔ہمارا تابناک ماضی ہی ہماری پہچان ہے لیکن جب ہم نے قرآن کی تعلیمات کو چھوڑا تو غلامی ہمارا مقدر بن گئی۔
 
ارطغرل غازی سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عظیم سپوت عثمان اوَّل کے والد تھے جو قائی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔وہ نڈر، بہادر، عقلمند اور بارعب سپاہی تھےاور آج بھی بحالئ عروج کے لیے نا ختم ہونے والی جدوجہد کی شاندار مثال ہیں۔ان کا مقصد اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا تھا کیونکہ یہی وہ دور تھا جب خلافت عباسیہ ختم ہو چکی تھی اور مسلمان کمزوری کا شکار ہو چکے تھے۔ ایک طرف منگول پوری دنیا میں خون کی داستاں رقم کر رہے تھے اور دوسری طرف صلیبی بیت المقدس کی بازیابی کے لیے ایک بڑی جنگ کی تیاری میں مصروف تھے۔ایسے میں ارطغرل غازی نے اپنے جنگجوؤں کے ساتھ مل کر حلب کے قریب صلیبیوں کے ایک خفیہ قلعے میں اپنا پرچم لہرا دیا۔بات اگر منگولوں کی ہو تو اسی دلیر جنگجو نے اوکتائی خان کے سب سے قریبی دوست نویان کی طرف سے کی گئی حکمرانی کی پیشکش کو ٹھکرا کر اس کو شکست دی جس کے بعد ارطغرل غازی کے قبیلے نے سوگوت کے قریب پڑاؤ ڈال کر صلیبیوں کے ایک اور اہم قلعے کو فتح کیا اور اسی جگہ اوغوز خان سے تعلق رکھنے والے باقی قبیلوں کو بھی ایک لڑی میں پڑو دیا۔سوگوت سلطان علاؤالدین کی سلطنت میں تھا، اس فتح کے بعد سلطان نے ارطغرل کو سوگوت اور ارد گرد کے علاقوں میں اپنا نائب مقرر کر دیا۔
اسی جانباز سپاہی نے کئی غداروں کے ساتھ ساتھ قبیلے اور سلطنت کے امیر کوردوغلو اور سعد الدین جیسےغداروں کو بھی ان کے انجام تک پہنچایا جو اقتدار کی لالچ میں کفار کے ساتھ مل کر دوسرے مسلمانوں کو بھی پیس رہے تھے۔دشمنوں کے ساتھ ساتھ غداروں سے نمٹنا بھی آسان نہ تھا۔ مجھے یہاں سلطان صلاح الدین ایوبی کے دو قول یاد آتے ہیں کہ "دشمن سے پہلے غدار کو قتل کرو"
"اگر دشمن کا ایک جاسوس پکڑ کر ماردو تو سمجھو دشمن کے ایک ہزار جنگجو مار دئیے"۔
اس سیریز میں ارطغرل غازی کے ایک روحانی پیشوا کا بھی اہم کرادرا دکھایا گیا ہے جنہوں نے دو مرتبہ ارطغرل کو اللہ کی مدد سے موت کے منہ سے نکالا اور ہر جگہ ان کی رہنمائی کی... اس روحانی پیشوا کا نام ابن العربی(شیخ محی الدین) تھا جو اندلس کے رہنے والے والے تھے۔اُس دور میں علماء، صوفیا اور اولیا کا اہم کردار ایک درخشندہ باب تگا جن کی ساری محنت کسی فرقے کی ترویج کی بجائے اسلام کے لیے تھی۔
*ارطغرل سیریز کے تین اہم پہلو:*
 
اس سیریز کا سب سے اہم پہلو کامل یقین ہے۔ یقینِ کامل کے بغیر کوئی بھی مسلمان اپنے مقصد کو پا سکتا ہے نہ ہی دشمنوں کا مقابلہ کر سکتا ہے،جو اس کو پا لیتا ہے مایوسی کبھی اس کے دل کا رُخ نہیں کرتی۔المختصر یقینِ کامل ان تمام اوصاف کی کنجی ہے جو ارطغرل سیریز میں دکھائے گئے ہیں۔جن میں سب سے پہلی صفت آپکا مقصد ہے۔
مقصد کے بغیر آپکا کوئی مستقبل نہیں، مقصد ہو تو مسلمان مغرب کے ہر قلعے کو پاش پاش کر کے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیتا ہے،آپکا مقصد ہی آپکی سمت کا تعین کرتا ہے، مقصد عظیم ہو تو راہ میں حائل رکاوٹوں کے لیے سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ اور حوصلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے لیکن مقصد میں کامیابی کے لئے ایک درست لائحہ عمل کا ہونا بھی بے حد ضروری ہے 
دوسری صفت استقامت ہے جو انسان کو کبھی لڑکھڑانے نہیں دیتی، یہ وہ سیڑھی ہے جو آپ کے اندر موجود خوف کو شکست دیتی ہے، جس کام کو حق سمجھ کر کیا جائے اس راہ میں آنے والی صعوبتیں برداشت کرنے کی ہمت دیتی ہےکسی بھی کام کو انجام دینے میں مسلسل جدوجہد ہی استقلال کا باعث بنتی ہے اس کے بغیر دین یا دنیا کا کوئی کام نہیں کیا جا سکتا، 
اس سیریز کا دوسرا اہم پہلو دانائی ہے،جو مومن کی میراث بھی ہے ،بلاشبہ یہ طلب رکھنے، اساتذہ کی خدمت بزرگوں کی قربت اور دانا لوگوں کی محفل سے ہی حاصل ہوتی ہے، بصارت کے ساتھ بصیرت جڑی ہوئی ہو تو دشمن کے راز جاننا اور مقابلہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
تیسرا اور انتہائی اہم پہلو جہاد ہے، آزادی ذہنی ہو یا جسمانی جہاد ضروری ہوتا ہےاسلام میں جہاد کسی مذہب، نسل یا قوم کے خلاف نہیں بلکہ ہمیشہ ان طاقتوں سے ہوتا ہے جو کمزور لوگوں پر ظلم کرنے کی عادی ہو جاتی ہیں جو اپنے تخت اور طاقت کا غلط استعمال کرتی ہیں، جہاد کا مقصد ظالم و جابر طاقتوں کو ختم کر کے منصفانہ حکومت قائم کرنا ہوتا ہے جس کی بنیاد خوفِ خدا پر اور اُس کے مقرر کردہ ضابطوں پر رکھی جاتی ہے. جہاد بالمال ہو،بالقلم ہو باالعلم ہو بالنفس ہو یا پھر بالسیف تب تک جاری رکھنا چاہیے جب تک کمزور و ناتواں مخلوق کو اُس کے حقوق نہ مل جائیں۔نیکی کے قیام و بقا کے لیے سب سے اہم چیز اس کی حفاظت کرنے والی سچی قربانی کی روح ہے اور جس قوم سے یہ روح نکل جاتی ہے، وہ بہت جلدبدی سے مغلوب ہوکر تباہ وبرباد ہوجاتی ہے۔
 
ارطغرل سیریز کسی سحر سے کم نہیں جو دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے، یہ ایک طلسم ہے جو مغرب کے ہر قلعے کو جکڑ کر پاش پاش کر دیتا ہے۔اس سیریز کے ذریعے مسلم قوم کو بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے،اپنے کلچر، اپنی تہذیب و ثقافت پر فخر کرنا سکھایا گیا ہے،یہ مسلمانوں کو احساس کمتری سے نکالنے کے لیے ایک جدوجہد ہے جس میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بزدلی کی چوڑیاں پہننے سے ہماری نسلیں ظالموں کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں اور حقیقی مسلمان وہی ہوتا ہے جو غازی ہو یا شہید مگر اس کی تلوار کی جھنکاریں ہزاروں سال تک سنائی دیتی ہیں ۔
اس سیریز میں تاریخ کے ساتھ ساتھ فکشن بھی موجود ہے۔ بہر حال تاریخ ہو یا فکشن سیکھنے کے لیے دیکھا جائے تو بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے لہذا اس کے سحر میں کھونے کی بجائے ہمیں مختلف تاریخی کتابوں سے بھی استفادہ حاصل کرنا ہو گا تا کہ ہم اس سیریز کے بنیادی مقصد کو اپنا سکیں .اس سیریز سے بہت سے اختلافات کیے جا سکتے ہیں مگر اسکی روح اس کی سوچ اور اس میں پنہاں فلسفہ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا .
بات بڑی سیدھی اور واضح ہے زندہ قومیں اپنے روشن ماضی سے سبق حاصل کرتی ہیں تاکہ ان کا مستقل سنور جاۓ . مسلمانوں کا روشن ماضی اسلام کی بلندی اور خلافت کے عظیم دور سے جڑا ہوا ہے . ہمارا بطور مسلمان ماضی بڑا روشن تھا جب اسلام کے پرچم کو تھام کر چلے تو کہیں ہم طارق بن زیاد تھے کہیں صلاح الدین ایوبی تھے کہیں نور الدین زنگی تھے اور کہیں ارطغرل غازی تھے . یہ ہمارے ابا و اجداد جو جذبہ ایمان سے لبریز پاؤں کی ٹھوکر سے کفار کے قلعے زیر کر لیا کرتے تھے . مگر جب ہم نے اپنا ماضی اور اسلاف کا سبق فراموش کر دیا دنیا میں ہماری حیثیت گداگروں جیسی ہو گئی . 
ہمارا فرض ہے ہم اپنے تابندہ ماضی اور عظیم بزرگوں کے نقش قدم تلاش کریں جن پر چل کر ہم میں بھی ان جیسے عظیم بہادر پیدا ہوں جن کو دیکھ کر کفار کے دل دہل جایا کرتے تھے . جن کی ہیبت سے قلعوں کو دراڑیں پڑ جایا کرتی تھیں . یہ وقت ہے کہ ہم جاگ جائیں ورنہ اتنی دیر ہو جاۓ کہ ہماری آنے والی نسلیں خود کو غلام ہی سمجھیں گی . ہم کو اپنی تاریخ خود لکھنی ہوگی اور روشن مستقبل کی جانب سفر کا آغاز کرنا ہوگا۔ارطغرل غازی کا قول ہے کہ " ہمارے اسلاف کی داستانیں بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ مردوں کو جگانے کے لیے سنائی جاتی ہیں" ۔
اس لئے اب ہم کو اپنی تاریخ کے روشن باب بھی خود لکھنے ہوں گے اور اپنی ناکامیوں کا نوحہ بھی لکھنا ہوگا تاکہ ہم غداروں سے منافقین سے اور ایسے افراد سے شناسائی حاصل کر سکیں جو ملک و ملت کا نمک کھا کر نمک حرامی کرتے رہے ہیں .اگر مستقبل میں زندہ رہنا ہے تو ہم کو اپنی تاریخ کا بھولا ہوا سبق یاد کرنا ہوگا، تب ہی ہم اپنی نسلوں کو مغرب کی زہنی غلامی سے بچا سکتے ہیں اور دوبارہ سے دنیا پر حکومت کر سکتے ہیں۔
رجیب اردگان کا قول ہے کہ"جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھے گا تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے"۔
 
از قلم :حافظہ عدیلہ فضل

 

Share your comments questions here
  • Text
3300

Find the best institute for yourself!

We need a few details from you to suggest you relevant institutes & create your free profile

Online Most Popular Awards In The World Quiz

10 Questions
Start Quiz