2020 کا سال ہمارے لیے اس قدر پریشان کن اور دوریوں کا سبب ثابت ہوگا یہ شاید کسی کو بھی معلوم نہیں تھا،مارچ کے درمیان میں جب پہلی بار اسکول کی چھٹیوں کا اعلان ہوا تو سب دم بخود رہ گئے اور میں تو بہت پریشان ہو گئ کہ بچوں کی پڑھائ کا بہت حرج ہوگا مگر پندرہ دن کے لیے پریشان ہونے والی میں اندازہ نہ لگا سکی کہ یہ چھٹیاں اتنے لمبے عرصے پر محیط ہو جائیں گی،ہر شے پر جمود سا چھا جائے گا،سب گھر پر قید قرنطینہ میں بیٹھنے پر مجبور ہو جائیں گے ،اسی بدحواسی اور مایوسی کے عالم میں مجھے یاد آیا" ارطغل غازی "جس کا نام میں پچھلے چھ ماہ سے متواتر سن رہی تھی،رائٹر  دوستوں  میں سے تقریبا سب ہی لوگ ارطغل دیکھ چکے تھے یا دیکھ رہے تھے اور جو جو دیکھ رہا تھا مسلسل مجھے بھی دیکھنے پر آمادہ کر رہا تھا مگر میں ٹال رہی تھی ،شاید میں اسکو ایک عام سا ڈرامہ سمجھ کر نظر انداز کر رہی تھی ،لیکن پھر میرے واٹس ایپ پر موجود ایک سینیر رائٹر نایاب جیلانی نے نا صرف اس ڈرامہ کو دیکھا بلکہ بے حد سراہا اور وہ بار بار اس سے مطلعق معلومات اور پکچرز شئیر کرتیں جس سے میرے اندر تجسس ابھرا،اور میں نے سوچا کہ مجھے کم۔از کم ایک بار ضرور اس ڈرامہ کو دیکھنا چائیے اور دیکھ کر فیصلہ کرنا چائیے کہ لوگ ٹھیک اس ڈرامے کو ارطغل ایک نشہ کہہ رہے ہیں یا۔۔۔۔
 
تو جناب یہ بتاتی چلوں کہ یہ ڈرامہ نیٹ فلیکس پر موجود ہے جو کہ انگلش سب ٹائٹلز کے ساتھ ہے۔
 
میں نے جب ارطغل کو لگایا تو قومی زبان میں نہ ہونے کے باعث میں تھوڑا مایوس ہوئی(اس وقت یہ ڈرامہ پی ٹی وی پر دستیاب نہیں تھا)اور میں سوچنے لگی کہ کیا میں اسے سب ٹائٹلز کے ساتھ دیکھ پاؤں گی ؟کیونکہ کسی بھی چیز کو محض سب ٹائٹلز میں دیکھنا ایک صبر آزما کام ہے جو ہر گز
آسان نہیں۔۔۔
 
خیر جناب آ پ سب سے وہ لمحہ شئیر کرنا چاہتی ہوں جب ارطغل شروع ہوا اور پہلا سین آیا تو پہلا سین ہی اس قدر توجہ کھینچنے والا تھا ۔۔۔"اس دنیا میں کوئی انسان علی رضی  سے زیادہ بہادر نہیں اور دنیا کی کوئی تلوار انکی ذوالفقار سے زیادہ تیز نہیں"
 
اس جملے کی اہمیت ہر مسلمان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔۔۔
 
اس ایک جملے کے ابتداء نے مجھے باور کروا دیا کہ یہ کوئی عام ڈرامہ نہیں۔۔یہی نہیں اسکے بعد تو میرا جوش و خروش دیدنی تھا وجہ؟وجہ صرف یہی تھی کہ اس سے پہلے کبھی کسی ڈرامہ میں ہمارے مذہب کو اس قدر ہائیلائیٹ نہیں کیا گیا تھا ،جس طرح سے نمازیں ادا کرتے ہوئے ،دعا کرتے ہوئے سب کو دکھایا گیا ہے وہ بے حد قابل ستائش ہے،نہیں تو ہم آج تک دوسرے مذہب کو فالو کرتے ہوئے متن دیکھنے کے عادی ہیں۔۔۔کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ ایک طرح سے مسلمانوں کو ہمیشہ احساس کمتری میں خاص طور پر مبتلا کیا گیا ہے ۔۔۔جبکہ یہ ڈرامہ دیکھ کر آپکو  فخر کا احساس ہوگا کہ آپ مسلمان ہیں اب لوگ یہ سوال اٹھائیں گے کہ کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور تھا کہ ایک ڈرامہ کا محتاج تھا ؟تو یہی سچ ہے ،کہتے ہوئے افسوس ضرور ہوتا ہے مگر ہمیں یہ مان لینا چائیے اس ڈرامہ نے ہمیں ہم سے ایک بار پھر روشناس کروایا ہے۔۔۔۔بلکہ یہ وہ ڈرامہ ہے جس میں سب سے اہم  چیز ہمارے مذہب سے منسلک متن ہے جو اس میں ہمیں وقفے وقفے سے دیکھنے کو ملتا ہے ۔۔۔احادیث،پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہم واقعات ،دوسرے انبیاء کرام اور صحابہ کرام کا تذکرہ،سچ پوچھیں تو اس سے پہلے کبھی کسی ڈرامے میں یہ سب دیکھنے کو نہیں ملا اور وہ بھی درویشانہ و صوفیانہ حسین امتزاج کے ساتھ جو سیدھا دیکھنے والوں کے دل پر اثر کرتا ہے۔۔۔
 
اب آتی ہوں اس کے مرکزی کردار ارطغل کی طرف۔۔۔
 
جیسے کہ دکھایا گیا ہے کہ یہ کردار کوئی فکشن کردار نہی بلکہ کائی قبیلے کےسردار سلیمان شاہ کے بیٹے کا ہے۔جن کا نام ارطغل غازی تھا۔۔جو اپنی بہادری کے سبب اپنے گردو نواح کے قبیلوں میں مشہور تھے بلکہ لوگ کسی حد تک انکی بہادری ،اور بے باکی سے خائف تھے۔۔۔
 
اس ڈرامہ کے آن ائیر ہونے کے بعد مختلف ادبی و سماجی حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔۔۔جن کے مطابق یہ کہا جا رہا ہے کہ ارطغل غازی نان مسلم تھے ،یا یہ کہ انکا تاریخ میں اتنا اہم کردار نہیں تھا جتنا دکھایا جا رہا ہے ، ٹھیک ہے اگر ان سب باتوں سے اتفاق بھی کر لیا جائے تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا اس ڈرامہ سے امت مسلمہ کو یا کسی کو کوئی۔ نقصان ہے؟سوائے منافقوں کے کسی کو اس سے کوئی نقصان نہیں ہے،ارطغل غازی اگر غیر جانب دار ہو کر صرف کردار کا تجزیہ کیا جائے تو بے شمار چیزیں ہیں جو ہمیں اس  کردار میں نظر آئیں گی بہادری،ہمت،معاملہ فہمی،زیرک نگاہ،ذہانت،دوستوں سے پیار و ایثار،دشمنوں سے دو ٹوک لہجہ ۔۔
 
چاہے کچھ ہو جائے ارطغل  کو جس پہ شک بھی ہوگا اسکے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں۔۔۔
 
نیویارک ٹائمز کے مطابق اس ڈرامہ کو سوفٹ ایٹم بم بھی کہا گیا ہے۔۔۔نہ صرف یہ بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں ان ڈراموں پر پابندی بھی عائد کی گئی جس پر صرف ایک مسکراہٹ کافی ہے،مغربی میڈیا اور اسلام دشمن میڈیا اسلام کے نام پر بننے والے ڈراموں تک سے خائف اور عدم تحفظ کا شکار ہے،یہ تو ہمارا ہی جگرا ہے جو ہم مغربی اور دشمنوں کا اسلام دشمن مواد دیکھتے ہیں اور اپنے ملک میں چلنے کی اجازت دیتے ہیں ، کشمیر میں اس ڈرامہ میں سختی سے پابندی عائد کی گئی ،انٹرنیٹ تک بند کر دیا گیا۔۔۔مگر جس قدر پابند سلاسل کیا گیا یہ ڈرامہ اتنے ہی زور و شور سے دیکھا گیا۔۔۔
تاریخ میں گزرے بعض کردار ایسے ہوتے ہیں جن کو دیکھ کر پڑھ کر ہم آنے والے وقت کا تعین کر سکتے ہیں .400 خاندان پر مشتمل ایک مختصر گروہ جس کو ان کے اپنے قبیلہ سے بھی نکال دیا گیا ہو وہ جب راہ حق میں کود پڑتے ہیں تو دن مہینوں سالوں میں وہ صدیوں کا سفر طے کرتے .  ارتغل کی محنت لگن دور اندیشی کی بدولت اس کی نسل سے اسلام کا ایسا پرچم بلند ہوتا ہے جو مشرق و مغرب میں نظام عدل قائم کرتا ہے . عثمانی خلافت کی تمام کامیابیاں ایک مضبوط بنیاد کی بدولت تھیں . اس ڈرامہ کو دیکھ کر ایمان بے شک نا جگائیں اور نا ہی اس سے اسلام و قرآن سیکھیں پر اتنی سمجھ ضرور آتی ہے کہ دنیا کی سیاست میں وجود قائم رکھنے کے لئے کتنی محنت درکار ہوتی ہے اور عالمی سامراج کس کس طرح دوسرے ملکوں میں اپنا تسلط قائم کرتا ہے . یہ ڈرامہ تاریخ کا وہ روشن رخ ہے جو بطور مسلمان ہم سے اوجھل رہا ہے . کیوں کہ ہم کو ہیروز کو وہ یاد کروائے گئے ہیں جو شکست خوردہ تھے . ہم کو یہ ان حقیقی ہیروز کا بتایا ہی نہیں گیا جن کی وجہ سے اسلام دنیا کے ہر کونے میں پہنچا . عدل انصاف کا بولا بالا ہوا . یہ بھی کسی بڑی سازش کے مقامی تانے بانے ہیں کہ ہم اپنی درخشاں تاریخ سے تمام قابل ذکر افراد سے آشنا نہیں ہیں . ہم کو نہیں معلوم اسپین میں سات سو سال حکومت کرنے والے عظیم مسلمان بھی ہمارے ہی بزرگ تھے . خلافت عثمانی جو ہمارے عروج کی علامت تھی وہ بھی ہمارا ماضی تھی . ہم بطور مسلمان کہاں کہاں نہیں تھے پر افسوس یہ ہم کو اور آنے والی نسلوں کو معلوم ہی نہیں . .تاریخ دیکھنے پڑھنے کا مقصد ماضی میں جینا نہیں ہوتا بلکہ ماضی سے سیکھ کر روشن مستقبل کی جانب سفر کرنا ہوتا ہے . اس لئے تاریخ دیکھیں اور پڑھیں ضرور مگر جیئیں حال میں اور سوچیں مستقبل کا . پھر ہی کھویا ہوا مقام ہم دوبرس حاصل کر سکتے ہیں تاکہ دنیا میں امن و امان انصاف و عدل کا پرچم لہرایا جا سکے .
از صائمہ نور

 

About The Author:

Ilmkidunya is one of the biggest educational websites working for the past 18 years to keep the people updated regarding the latest educational news about admission, universities, results, date sheets, and scholarships.


Share your comments questions here
Sort By:
X

Sign in

to continue to ilmkidunya.com

inquiry-image

Free Admission Advice

Fill the form. Our admission consultants will call you with admission options.