ایک طالبعلم کا ذوقِ عبادت' شوقِ دعا اور معمولِ نوافل


  • News Submitted By: Ilm Ki Dunya

  • 23-May-2020

  • Views: 1926

ہاشم کے دس نوافل
تحریر: خبیب احمد کنجاہی
 
بچے ہاسٹل تو اب فل ہو چکا ہے' ہاسٹل کے داخلے تو یونیورسٹی میں داخلے کیساتھ ہی کروانا پڑتا' آفس میں سیٹ پر بیٹھے ہوے آفس انچارج نے مجھے بتایا۔ میں گجرات سےہوں' اچھا تو کہیں آس پاس کوئی ہاسٹل ہو؟ یہ ایک نمبر لکھو اس پہ کال کرو' میرا حوالہ دینا امید ہے کام ہوجائے گا۔ جی ٹھیک ہے' بہت شکریہ! آفس سے جیسے ہی میں باہر آیا'  ایسے جیسے میرا سر پھٹ رہا ہو' اگر ہاسٹل نہ ملا تو؟ طرح طرح کے سوالات نے مجھے ایک دم سے پریشان کر دیا'  خیر میں نے دیے ہوئے نمبر پہ کال ملائی' ہیلو کون؟ فون اٹھانے والے صاحب نے کہا' جوابا میں نے کہا'  میں آفس انچارج' سپیرئیر یونیورسٹی کے حوالے سے بات کر رہا ہوں' ہاسٹل کے حوالے سے'  کتنے لڑکے ہو؟ میں اکیلا ہی ہوں، ٹھیک ہو گیا' چار بجے تک یونیورسٹی کے ساتھ ہی فلاں نام کا ہاسٹل ہے' پوچھ کے آ جانا' جیسے ہی آ جاؤ'  مجھے کال کر لینا' جی ٹھیک! کال ختم ہوئی' دل کو کچھ تسلی ہوئی' جاں میں تھوڑی جاں آئی۔
 
وقت دیکھا تو چار بجنے میں کوئی چالیس منٹ باقی تھے' لیکن تیس منٹ تو وہاں سوچتے سوچتے گزر گئے۔ اب صرف دس منٹ باقی تھے کہ میں بتائی ہوئی جگہ کی جانب چل دیا۔ ایک دو لوگوں سے پوچھ کر میں با آسانی بتائی ہوئی جگہ پر جا پہنچا۔ کال ملائی' جناب میں خبیب بات کر رہا' میں یہاں آ گیا ہوں' جی جی میں آیا' اُدھر ہی آ رہا ہوں۔ بس کچھ ہی لمحوں میں وہ بھی آ پہنچے' سلام دعا کے بعد مجھے کہنے لگے' آفس انچارج صاحب سے بڑا پیار ہے جی' میں اسکول ٹیچر ہوں لیکن جیسے ہی یہاں یونیورسٹی بنی ہم گاؤں والوں کی جیسے قسمت کُھل گئی' ہم لوگوں نے اپنی زمینوں پر ہاسٹل بنوائے' کچھ لوگوں نے زمینیں خرید کر ہاسٹل بنوائے'  یوں آج ہمارا ہاسٹل کا کاروبار خوب چمکا ہوا ہے۔  آئیے اب آپکو ہاسٹل دکھاتا ہوں' دو ہاسٹل ہیں' جو پسند آ گیا' اُس پہ بات کر لیں گے۔ جی چلیے پہلا ہاسٹل دیکھا' ناقص حالت اور نہ ہی خاص سہولیات میسر تھیں' دوسرا ہاسٹل کہاں ہے؟ وہ بھی تھوڑے ہی فاصلے پر ہے' یہ زرا سستا ہونے کی وجہ سے ایسا ہے مگر دوسرا اچھا ہے لیکن تھوڑا کرایہ زیادہ ہے اُس کا'  اُس میں ساری بنیادی سہولیات کیساتھ کیساتھ صفائی ستھرائی کا بھی اہتمام ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ایک ہی چھوٹا کمرہ باقی رہ گیا ہے' جس میں فقط دو لوگ رہ سکتے ہیں'  جس میں پہلے سے ایک لڑکا رہتا ہے' ایک کی جگہ باقی ہے۔
 
یہ ساری باتیں کرتے ہوئے' چند ہاسٹل چھوڑ کر ہم دوسرے ہاسٹل کے بابِ کمرہ تک پہنچے۔ ہاشم یہ ہے خبیب' گجرات سے' ہاسٹل دیکھنے کیلیے آئیں ہیں' جی جی دیکھیے۔
دیکھ لو بھائی' میں نے چند باتیں پہلے سے رہنے والے ہاشم سے پوچھیں' کمرہ دیکھا' ہاسٹل کا جائزہ لیا' کہا مجھے ہاسٹل پسند ہے' جو معاملات طے کرنے تھے' کیے گئے۔ یوں بمع چند سامان میں ہاسٹل آگیا۔ آج لاہور' ہاسٹل پہلا دن ' پہلی رات تھی' وقت گزرتا گیا' ہاشم کم گو مگر نفیس' خیال رکھنے والا لڑکا تھا۔  میں کئی وجوہات کی بِنا پر ہاشم سے متاثر ہوا' جسکا میری حیات' شخصیت و طبعیت پر گہرا اثر پڑا۔
 
ہاشم کی زندگی کا ایک واقعہ آپ لوگوں کو بتاتا ہوں۔ یقین جانیے بڑی مشکل سے بتانے کی اجازت ملی'  اجازت حاصل کرنے کیلیے مجھے پانچ سال لگے۔ ہر بار وہ کہہ دیتا یہ کوئی بتانے والی باتیں ہیں بھلا' نہ بتانا کسی اور کو' آخر کار  کرتے  کرتے اب جا کہ اجازت ملی وہ بھی ایسے کہ بس نوافل والی بات بتا دوں وہ بھی فرضی نام کیساتھ' ہاشم فرضی نام ہے۔ 
 
ہاشم عشأ کی نماز کے بعد  اضافی دس رکعت دو دو کر کے نماز ادا کرتا' بعد از نماز طویل دعا مانگتا' شروع شروع میں تو' میں نے بھی دیکھ کر ان دیکھا کیا' بعد ازاں میرے پوچھنے پہ اُس کا کہہ دینا کہ بس وقت مل جاتا ہے تو  دس نوافل ادا کرلیتا ہوں۔  رات کو وہ چپ کئ گھنٹے ایسے گزار دیتا جیسا کوئی گہری سوچ' سوچ رہا ہو' جانے یہ کیسا غوروفکر تھا' جس میں دلجمعی تھی' استقامت اور سنجیدگی بھی تھی۔
اتوار نمازِ فجر ادا کی۔
میں اسکا انتظار کر رہا تھا کہ نماز کے بعد آج پارک چلیں گے۔
مسجد سے ہم نکلے تو خود ہی کہنے لگا کیوں نا آج پارک چلیں کچھ وقت گزر جائے گا پھر اکٹھے ہی ناشتہ کر کے ہاسٹل واپس آ جائیں گے' پھر مجھے ایک جگہ کام سے جانا ہے' اگر کوئی کام نہیں تو ایکساتھ چلیں گے' نہیں کوئی خاص کام نہیں چلیں گے اکٹھے' میں نے ثبات میں سر ہلایا۔  باتوں باتوں میں ہم ساتھ  ہی ایک سوسائٹی کے پارک میں داخل ہوئے۔  ایک دو چکر لگانے کے بعد ہم ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔
میں نے کہا اس دور میں ایک بڑی تعداد نماز نہیں پڑھتی'  پڑھنے والوں میں ایک تعداد کے ہاں کوئی خشوع خضوع دیکھنے کو نہیں ملتا لیکن میں حیران ہوں کہ تم آرام سے نماز ادا کرتےہو، پھر طویل دعا' نماز کے بعد پھر روزانہ دس رکعت اضافی نماز اور پھر طویل دعا' یہ ذوقِ عبادت' شوقِ عبادت' معمولِ نوافل کیسے ممکن؟
میرا پوچھنا تھا کہ اُسکی آنکھیں نم ہو گئیں لیکن
مسکرا کر کہنے لگا' راز جب افشاں ہو جائے تو راز نہیں رہتا' راز امانت ہوتا ہے' افشاں کر دیں تو خیانت ہو جاتی ہے لیکن ہر کسی کا کا کوئی نا کوئی رز دار ضرور ہوتا ہے۔ تنہائی کی عبادت کا خدا عزوجل کے سوا کسی اور کو معلوم ہو جائے تو عبادت کا وہ مزہ باقی نہیں رہتا۔ 
 
دس نوافل جس میں دو نفل خالصتا خدا کی رضا اور خدا کیلیے' جس نے مجھے پیدا کیا' جس کی طرف میں نے لوٹ جانا ہے' جس نے مجھے مسلمان پیدا کیا' مسلمان رکھا' ایمان کی دولت سے نوازا' ایمان کی سلامتی و خاتمہ بالایمان کیلیے دعا مانگتا ہوں۔ پھر دو نفل میں خضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیلیے' جنہوں نے ہم کو ہر وقت یاد رکھا' جو ہمارے لیے ' بے قرار رہتے ہیں' وہ جو ہماری شفاعت کریں گے
آلِ محمدﷺ و صحابہ کیلیے' انکے درجاتِ بلندی کیلیے دعا کرتا ہوں' اگر چہ وہ اعلی مقام پہ فائز تھے' ہیں اور یقینا ہونگے۔ پھر دو نفل والدین' رشتہ دار اور دوستوں کیلیے' ان کے سلامتی' تندرستی کیلیے دعا کرتا ہوں۔ پھر دو نفل اپنے مرشد اور اساتذہ کیلیے' انکی سلامتی' تندرستی کی دعا کرتا ہوں۔ پھر دو نفل اپنے وطنِ عزیز کیلیے' اس کی سلامتی' امن اور بقا کیلیے دعا کرتا ہوں۔ میں نے پوچھا مرشد کوں؟ تو کہنے لگا پھر کبھی صییح۔ زندگی کی چار بہاریں ایک ساتھ گزاری ہم نے' ہاشم کی طرف سے اگر اجازت ہوتی تو میں اس کی باتیں' اپنی آنکھوں دیکھے اُس کے احوال بیان کرتا تو آپ لوگ اش اش کر اٹھتے' آپ کہتے اس دور میں ایسا بندہ وہ بھی کوئی نوجوان' ایک یونیورسٹی کا طالبعلم۔
میں نے کہا میرے لیے بھی دعا کرنا' کہنے لگا ایک دل میں بس ایک محبت ہو سکتی' خدا کی یاں دنیا کی' دو محبتیں ایک دل میں نہیں ہو سکتیں' میں دعا کروں گا کسی دن مگر اپنی مرضی کی۔ چلو اب واپس چلتے ہیں۔  می کوشش کروں گا' کہ کچھ اوربیان کرنے کی اجازت لے سکوں۔

Tagged With: Hasim k dus nawafil, khubaib ahmad, passion for paryer


 

Share your comments questions/here
  • Text
  • Image
  • Video
  • Live
567